دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 157
رواہ جلسے مت است ایشان موریان در کجاست از مامی ملت ایشان گیں حلقہ جس میں میں بھی سی چور ہو وہ اس کے صدر ہوتےہیں اور جاں گناہ گاروں کا حق ہو نگین کی مانہ ہوتے ہیں خرابات آشنا یگانه از کرکے مد می رفت از ارباب میں مے پرستار نہیں شراب کے رہا اگر ہدایت سے لے گا نہ ارباب دین سے نفرت اور شہر بجنوردوں سے صحبت ہے یروانی دار اس کا د اخلاص داشت چون میداند ولی این قوم صدق الامین ני جو ہے ان سے نہ پھر لاہو پہلے ان سے قدم رکھتا تھا ان کے اسم کے این و وای واداری کی ازمان دولت اقبال ایشان درگذشت شود اعمال شال آور دایا ہے چنیں ان کے دوست اقبال کا زمانہ تو گزر گیا۔ اب ان کے اعمال کی نحوست ایسے دن لے آئی ان و دین پروری امر رایج اندر نیست از جواید بیابیدیم ازیں دو رہ باتیں پہلے ہو ترقی ہوئی تھی وہ دین پروری کے راستے سے ہوئی تھی پھر بھی جب ہوگی یقینا ہی راہ سے ہوگی یا الی اند که آید تو وقت مرد ان کے پیر اس فرخندہ ایام و نیں رے خدا پھر کب تیری کی طرف طرف ۔ سے درد کا وقت آئے گا اور ہم پھر وہ مبارک دان اور سال کے گپ رکھیں گے ان دو تکوین احد مهرجان انداخت کارت اهدای قلت قلت انصار دیں رین آمد کے متعلق ان دو فکروں نے میری جان کا مر گیا اور با صدائے ملت کی کثرت اور انصار دین کی قلت دارد و آور را آب نصرت با بیار اسراره دا یارب زین نام آتشین سے خدا جلد اور ہم ہی اپنی نصرت کی بارش برسا۔ ورنہ اسے میر سے رب اس ہات ہیں جنگ سے مجھ کو اٹھا لے۔ اندا نور روی از مشرق رحمت برادر کریں اسی کی روان بنایا تے میں ے ندامت کے مطلع سے ہدایت کا نور طلوع کر یوں چکھتے ہوئے نشان دکھلا کر گمراہوں کی انکھیں بن کر