دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 144
کور کی خود ترک کن ہے بین اسے گر ابر خیز و آل شا ہے ہیں اپنی نابینائی کو چھوڑ اور چاند کو دیکھ اسے فقیر اُٹھ اور م اس بادشاہ پر نظر ڈال رو ببین و قدیمین و ندی ہیں از محاسن اسے خوباں صدر ہیں چرہ دیکھو ۔ قدہ دیکھ، قدد نمال دیکھ اور حسینوں والی سینکروں تو یہاں ملاحظہ کر یکردم از خود دور شو بهر خدا تا مگر نوشی تو کاسات نقا اگر خدا کے لیے اپنے نفس سے بجلی کنارہ کشی کر لئے ۔ تاکہ تو وصل کے جام نوش کرے دین حق شہر خدائے امجد است داخل او در امان ایزد است دین بھی تو خدائے بزرگ در تر کا شہر ہے جو اس میں داخل ہو گیا وہ خدا کی امان میں آگیا درد سے نیک خوش اسلوبی کند کچھ خود زیاد محجو بے کند وہ تو ایک دم میں نیک اور خوشحال کر دیتا ہے اور اپنی طرح کا حسین اور محجوب بنا دیتا ہے جانب اہل سعادت کے بزن تا شوی روزے سے بعید اسے جان من آشوری مید لوگوں کی طرف قدم اُٹھا تا کہ اے میری جان ایک دن تو بھی سعید ہو جائے ے بعد انکار وکیں ان کورد نی رو در حق زن چه اسر مے زانی ے دہی شخص ہو بہو توئی کی وجہ سےسخت المکاری اور امین ہے کیوں جھک مارتا ہے جا اور خدا کا دروازہ کھٹکھٹا نالہ ہاکی کا سے خداوند یگاں نگلال از پائے میں بند گراں فریاد کر کر اسے خدائے لاشریک میرے پیروں کی بھاری نہ بخیر میں کھول دے مائے لاشریک میرے پیر اگر ماں خانہ بائے درد ناک دست پیسے گردت ناگر ز خاک گرتمان شاید اس دردناک آہ و زاری سے ایک عیبی ہاتھ مجھے زمین پر سے اٹھائے