دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 143

اسے مدار بیچ نبینا نے برار کہ جنا با حق نمے دار غمہ کار اے خدا بیت لوگوں کو جڑی بنیاد سے نباہ کر دے جو نانی سچائی کو چھوڑتے ہیں دل نے دارند و چشم و گوش هم با نه سر پیچاں انسان بدیه انتم نہ تو دل رکھتے ہیں نہ آنکھیں نہ کان ہیں۔ بانہ انھیں نہ کان اس پر بھی اس بدید کامل سے سرکشی ہیں دین شال بر قصه ها دارد مدار گفتگو با ہر زباں۔ دل ہے قرار ان کے دین کا صرف قصوں پر مدار ہے زبانوں پر تو باتیں ہیں مگر دل غیر مطمین ہیں فرق بسیار است در دید و شنید خاک پر فرق کے کیس را ندید دیکھنے اور سننے میں بڑا فرق ہے جس شخص پر افسوس میں نے یہ بات نہ سمجھی دید را کن جستجو اسے نا تمام اور نہ در کار خودی ایس سرد و خام و اے ناقص انسان ، معرفت کی تلاش کے دور نہ تو تو اپنے مقصد میں خاص اور ناکام رہے گا پر سماعت چول همه باشد بنا آن نیفزاید بو سے صدق و صفا جبکہ صرت شنید پر ساری بنیاد ہو۔ تو وہ جو بھر بھی صدق و صفا زیادہ نہیں کرتی مد بزارین قصد از روکے شنید نیست دیاں باجرے کی بہت دید لاکھوں سماعی قصے ایک بجھ کے برابر نہیں ہوتے ہو چشم دیر ہو دیں ہاں با شد که ورش باقی است و از شهراب دید مردم ساتی است دیں رہی ہے جس کا نور باقی رہنے والا ہو اور ہوتا والا ہو اور ہر وقت شراب معرفت کا جماهم پلاتا کا تمام پلانا ہو ول مدہ الا بچہ ہے کو جمال را نماید بر تو آیا تو کمال اس مین کے سوا کسی کو دل زد سے ہو اپنے حسن کی وجہ سے تجھے کمال درجہ کے نشانات دکھاتا ہے