دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 142
۱۴۲ اور دار سر صدق و ثبات د غم خوری روزگاری در حضور بابری سچائی استقلال اور درد دل کے ساتھ ہمارے پاس کچھ مدت تک پہ مدت ۔ عاملے بینی تو ربانی نشاں سوئے رجحان خلق و عالم راکستان 1 ہو دینا جہان کو رحمان کی طرف کھینچنا ہوگا تو تھا ئی نشانوں کا ایک عالم دیکھ لے گا۔ ہو دیتا ضائی کر لات واقعه گفتم سخن راهیم گر تو سرم میری بزنین ! اگر میں نے خلاف واقعہ یہ بات کی ہے تو ہیں راضی ہوں کہ تو میرا سر تن سے جدا کرد۔ ما نیم گر خلق به دارم کشتند! انه سرکیس با صد آزارم کنند میں اس پر بھی راضی ہوں کہ لوگ مجھے سولی پر چھ ھادیں اور سینکڑوں لکھ دے کر غصہ سے مجھے مارڈالیں راهیم گر با شدم این کیفری خون روال بر خاک افتادہ ہے میں راضی ہوں اگر مجھے یہ ستر ملے کہ خاک پر میرا خون بہنا ہوا سر پڑا ہو ا نیم گریان و جان و تن رود و آنچه از قسم بلا بر من رود میں راضی ہوں اگر میرے جان ومال اور ہم نا ہوجائیں اور بھی طرح طرح کی مصیبتیں مجھے پرنان انزال مول گر در و هم رفته باشند بر زبان راضیمہ پر ہر سرائے کا زباں در قم به پر زباں اگر میری زبانی سے جھوٹ نکلا ہے۔ تو جھوٹوں کی سیر سزا پر میں خوش ہوں یک گرتوزین سن بچی سرے پہر تو ہم ترین رات اکبر سے لیکن اگر تو بھی اس بات سے انکار انکار کرے ۔ تو تجھ پر بھی خدا کی لعنت کی مار پڑے میں سخنها هر که رو گردان بود آن نه مرد انہ مرد سے رہزن مردان بود جو بھی اسی باتوں سے رو گردان ہے ۔ وہ مرد نہیں بلکہ لوگوں کا رہنران پے