دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 140
۱۴۲۰ الے درد کا رو شکے ان شاہ دیں خادمان و چاکرانش را ہیں اداکار کے ار شا دی اتان و را بین ایر اسے وار کر تو دین کے بادشاہ سے انکار اور شک میں ہے اس کے خادموں اور تو کروں کو ہی دیکھ ن کے خادم کس ندیده از بزرگانت نشان نیست در دست وپیش از داستان ی کون سا تیرے بنوں میں تیرے میں کہاتوں سے زیادہ اور کچھ ہیں بیک گر خواهی بیا بنگر زما صد نشان صدق شان مصطفی کسی نے بھی 1 لیکن اگر تو چاہے تو آہ ہم تھے مصطفے کی شاہی صداقت کے سیکریٹوں نشان دکھا دیں گے ہاں بیا اسے دیدہ بستہ از حسد تا شعاعش پرده تو بر دروا اے وہ میں نے حسد کے بارے بنکھیں بند کر لی ہیں ہوتا کہ اس کی روشنی تیرے کھابوں کو بھانڈا ہے صادقان را نور حق تا بد معاصر کا زباں مردند و شد تر کی تمام 16 میچوں کیلئے نور حق ہمیشہ چھتا رہتا ہے جھوٹے مر گئے اور ان ال کی نزر کی تمام ہوتی مصطفے خدا تعالی مصطفی مهر درخشان خداست در عدوش جنت ارض و سما است اتعالیٰ کا چمکتا ہوا آفتاب ہے اس کے تیمن پر زمین و آسمان کی لعنت ہے پر این نشان بهت آمرکای خیال مانده اندر ظلمتے چوں بشیراں ! لعنت کا یہی تو نشان ہے کہ یہ ذلیل لوگ چمگادڑوں کی طرح اندھیرے میں پڑے ہیں نے دل صافی نہ عقلے راہ میں راندہ درگاہ رب العالمین با 1 ندان کا دل پاک ہے نہ ان کی مشعل راستہ دیکھنے والی ہے وہ رب العالمین کی درگاہ سے مردود ہیں ! جمال کنی صد کن مین مصطفے رہ نہ بنتی جمہ بدین مصطفے بین مصطفے کی نہی میں سینکڑوں دفعہ میں تیری نوبت جانکی تک پہنچ جانے پر بھی تو سلطے کے دین کے سواری راستہ نہ پا