دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 128

۱۲۸ از کرم بر داشتی بر باره ما از تو ہر بار و پر اشجار تو نے اپنی مہربانی سے ہمارے سب پوچھا تھالیے ہیں اور ہمارے درختوں پر میوہ اور پل تیر نے فعل سے۔ حافظ و شاری از جود و کرم پیکان را یاری از لطف نام ہو رہا ہے یرانی در سایت سارا حافظ اور پر دیا ہے اور مالی رانی سے لے کوں کا ہمدرد اور پردہ کھائی مربائی۔ پردا بنده در مانده باشد دل بلیاں ناگهان درمان بر آری از میان جب بندہ مخموم اور در ماندہ ہو جاتا ہے تو تو وہیں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا ہے ھا جو سے را ملتے گیرد براہ ناگہاں آرمی پر و صد مہر و ماہ جب کسی عاجز کو رستے ہیں اندھیرا اگھیر لیتا ہے تو تو کرم اس کے لیے سیکر یوں سورج اور چانپیدا کر دیتا ہے محسن و خلق و دلبری پر تو تمام سمجھتے بعد از تقائے تو حرام حسن و اخلاق اور دلبری مجھ پرختم ہیں تیری طاقات کے بعد پھر کس سے تعلق رکھنا حرام ہے ان خردمند که او دیوانه است تیج برهم است آنکه او پر اشات عقلمند ہے جو گرا دیوان ہے اور وہ شمع بزم ہے۔ جو جو تیرا پروانہ ہے بر که عشقت در دل مجانش فقد ناگہاں جانے در ایمانش مند ہر وہ شخص میں کے جان و دل میں تیر ان داخل ہو جائے تو اس کے ایمان میں فورا جان پڑھاتی ہے۔ عشق تو گرد یہاں بودھ سے اور ہونے تو آید ز بام کوئے اُو یر اش اس کے چہرہ پر ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کے درو دیوار سے تیری خوشبو آتی ہے لد بنزاران تحقق بخشی نو بود مهرومه را پیش آمدی در سجود تو اس کو اپنے کرم سے لاکھوں نہیں ہوتا ہے سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ کرواتا ہے