دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 125
۱۲۵ عشق است که بر خاک دلت خلطانه عشق است که بر نقش سوزان نیشاند عشق ہی ہے جو ذلت کی خاک پر آدمی کونٹر پاتا ہے۔ عشق ہی ہے جو جلتی ہوئی آگ پرم سے بیٹھاتا ہے۔ کسی پر کسے مرند بر جان نشاند عشق است که این کار با دستی کناند کوئی کسی کے لیے نہیں دینہ جان قربان کرتا ہے عشق ہی ہے کہ یہ کام پوری وفاداری سے کر آتا ہے۔ ای بین احمدیہ حصہ چہارم حاشیه صفحه ۱ ۱۴۵ بیچ صو بے نماند بچھو بار دلبرم مرومه را نیست قدری در دیار دارم میرے داہر کو کوئی مجبور نہیں پہنچتا میرے معشوق کے شہر میں سورج اور چاند کی کوئی قدر نہیں ن کیا ہے کہ دار پوری آب باب ماواں کیا جائے کہ سے داد دیار و برم یا چھرہ کہاں ہے جو اس کے منہ کی مانند آب کتاب رکھتا ہواور ایسا بانی کہاں ہے جو میرے ویر کی بھی یاد رکھتا ہوں این امر به هر بهاره ها به در حاشیه خود ۱۵۰ ویدہ بنا سے حق گریں یاد کن فرمان قل للمومنین سے من پرست آنکھ اور کان بند کرے اور قل للمومنین کا خدائی حکم یاد کر خاطر خو زریں و آل کمیسر بر آری تا شود در خاطرت حق آشکار انیا دل ادھر اُدھر کی چیزوں سے بالکل ہٹائے تا کہ تیرے دل پر تنی ظاہر ہو جائے دیر پا کن دلیراں ایں جہاں تا نماید چہرہ آن محبوب جاں اس جہان کے معشور توں کو لات مار تاکہ تیری جان کا محبوب تجھے اپنا منہ دکھائے