دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 125

کس عشق است که بر ناک مذلت غلطانه عشق است که به نانش سوزان نیشاند عشق ہی ہے جو ذلت کی خاک پر آدمی کو تڑپاتا ہے۔مشتق ہی ہے جو جلتی ہوئی اگر پر اُسے بیٹھاتا ہے۔ہر کیسے سرند برجال نفشاند عشق است که این کار بصد حق کناند کوئی کسی کے لیے نہیں دینہ جان قربان کرتا ہے جنتی ہی ہے کہ یہ کام پوری وفاداری سے کراتا ہے۔رہے ہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیه صفحد (۲۵) دلبرم : بیچ محبوبے نماند بچھو یا بر و برم مرومه را نیست قدرے دریا به دلیرم میرے اوپر کو کوئی مجبور نہیں پہنچتا میر سے معشوق کے شہر میں سورج اور چاند کی کوئی مقصد نہیں یا چہرہ کہاں ہے جو اس کے منہ کی مادہ کی تاب رکھتا ہواوں ایسی بات کہاں ہے جو میرے ولی کی بھی بہار رکھتا ہوں میه و مدام شیر گوش میدہ بنانے میں گرین یاد کن قربان قل للمؤمنين | ے حق پرست آنکھ اور کان بند کرنے اور قل للمومنین کا خدائی حکم یاد کر خاطر خونرین و آن کمیسر یہ آر آشو ر پر خاطرات حق آشکار اپنا دل ادھر ادھر کی چیزوں سے بالکل بٹائے تا کہ تیرے دل پر حق ظاہر ہوجائے دیر با کن دلیران این جہاں آنا یہ چہرہ آن محبوب جاں اس جہان کے معشوقوں کو لات مارتا کہ تیری جان کا مجوب تجھے اپنا منہ دکھائے