دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 124
۱۲۳۴ ہے آنکه داد از یقین دل جائے ہست گفتار آل دلا رامے وہ جس نے دلی یقین کا جام میں زیادہ اس محبوب کی گفتار ہی تو وسیل دلداده دستی از جامش همه حاصل شده و الهامش دیر کا وصل اور اس کے جاریہ شراب کا نشہ سب اُس کے الہام سے حاصل ہوئے صل آن پی میل سر کا میت یہ زمیں مل ناقل آن نامیست ومنین آن مقصد کا اصل اُس یار کا وصل ہے اور جو اس اصل سے فاضل ہے کہ کچا ہے ہے عطیات ناسمجہ ہے زاد ہے عنایات ، ہمہ پر باد اس کی نعمتوں کے سوا ہم سب تھی دوست میں اعلہ اس کی عنایتوں کے بغیر ہم سب پر بار ہیں رہما بین احمدیہ حصته چهارم صفحه ۳۰۸ تا ۳۱۸ مطیر که ۱۳۱۳۵۳ اتواں راکھا تاب و کمال انشا اپنی خودنداں ہے خفتان کرداروں میں یہ طاقتکب ہے کہ وہ خود ہی اس بے نشان وجود کا پتہ لگائیں عقل کو رول رہنا بودید براه رهبری از دانش کوران خواه | میل کی عقل تو ود ہو رستہ پینے کے لیے نہا دھوتی ہے تو ادھوں کی معقل سے میری طلب تذکر عقل را از هر زاری دیک است درفیع آنتار جهالت از خداست ہماری عقل تو صرف رونے دھرنے کے لیے ہے اور جہالت کے دکھ کا رقیہ خدا کی طرف سے اپنے عتقل طفل بست اینکه گرید زار زار شیر نجمه ما در نیاید زینهار بچے کی عقل تو صرف یہ ہے کہ زار زار ہوئے۔مگر دورہ تو سوائے ماں کے ہر گز نہیں مل سکتا