دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 120
۱۲۰ تا بحد يقي رسد تعلیم تا دو گونه شود رو تفهیمه تاکہ تعلیم یقین کی حد تک جا پہنچے اور عقل و سمجھ کا راستہ ڈیل ہو جایا هیم۔ زاں دو دو گونه مناهج تلقین سے کشاید رو حصول یقیں تکفین کے ان دو راستوں سے یقین حاصل کرنے کا رستہ کھل جاتا ہر طبیعت بحسب قم در خیال سے یہ آید بدال نہ چاہ ضلال ربیت اپنی سمجھے اور خیال کے مطابق ان وسائل کے ذریعہ گراہی کے کنوئیں سے باہر نکل آتی ہے۔ عرض آن میل فطرتی که خدا ق کرد در فطرت بشر پیدا غرض یہ کہ وہ قدرتی میلان جو خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں پیدا کیا اس ہے خواست وحی ربانی نظر سے کن بغور تا دانی وہ بھی خدائی الہام کا طلب گار تھا غور سے دیکھ تاکہ تو حقیقت کو ای فراست چون فتاده است چناں چوں کشی سر قطرت اسے ناداں جب تیری فطرت ہی ہی طرح واقع ہوئی ہے پھر اسے نادان اس فطرت سے کیوں روگردانی کرتا ہے اقتضائے طبیعت انسال که نهاد است ایزد منان انسانی طبیعت کا تقاضا ہو اس محسن خدا نے اس میں ودیعت کیا ہے کہ بشر را کند یہوئے قیاس تا مهد کار را به عقل اساس کبھی بشر کو قیاس کی طرف کھینچتا ہے تا کہ اپنے کام کی بنیاد عقل پر رکھے گاه دیگر کشد به منقوی تا بیارامد از بیان ثقات پھر دوسرے وقت وہی تقاضا سے روایات کی طرف لاتا ہے تاکہ معتبر انسانوں کے بیان سے تسلی پکڑے