دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 119
119 اپنا دروازه بند در خود بندد و بگریه دار کار کشانده رو دشوار بند کر کے رو رو کر موفق کرتا ہے کہ اسے مشکل کشتا کتر من به بخش و پرده بپوش تا نه دشمن ز ند شادی جوش میرے اور سے گناہ بخش اور میری پردہ پوشی کر تا کہ شین خوشی سے باغ باغ چوں چنیں فطرت بشر افتاد دال سه گونه صفت که کردم یا در جب انسان کی فطرت یہی ہے یہی اس میں دو نیتوں صفات موجود ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اس حکیش زکات بے پایاں حسب فطرت بدا د ہم ساماں تو اس حکیم نے بھی بے صہ مہربانی کے ساتھ ایسے اُس کی فطرت کے مواقی سامانی عطا از ہے جسد خونین نقش داده راه فکر و قیاس و خوض کشاد قد وجد کے لیے خدا نے اسے عقل بخشی ۔ شکر ۔ قیاس اور غور کا راستہ کھول دیا ماز ہے کار باہمی امداد رحم در قلب یک دگر جہاد باہمی اعداد کے لیے اُس نے ایک دوسرے کے دل میں رحم رکھ دیا اد شوب و قبائل و اقدام کرد کاره نظام و ربط تمام بادیاں قبلے اور قومی بناکر اس نے ایک نظام کام کیا اور متعلقات مکمل کر قریں ار پئے حاجت نیون مدا کرد الهام برا ارحم نہ رحم عطام اور خدائی فیضان کی ضرورت کے لیے اپنے رحم سے الہام مرحمت فرمایا نار سد کا یه آدمی بکمال تا میسر شود همه آمال رسد کار تا کہ آدمی کا کام اپنے کمال کو پیچھی جائے تاکہ ساری خواہشیں پوری ہو جائیں 4