دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 118

پائے توانگ منزل تو دراز در سمت چول سمی ازین تگ و تاز تیرا پر لنگڑا اور منزل دور ہے مجھے ڈر ہے کہ اس حالت میں تو منزل پر کیونکر پہنچے خود چین است قطرات انسان کو چو بیند که مشکل است گران آدمی کی اپنی فطرت بھی یہی ہے کہ جب مشکل کو سخت دیکھتا کھتا ہے اول از دور دوتاب طاقت خویش می کند سعی و جهد بیش از پیش پہلے اپنے ہی نور قوت اور طاقت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ محنت اور کوشش کرتا ہے۔تا گر کا یہ بستہ بکتاید زیر بار سپاس کس نایدا تا کہ ڈیکا ہوا کام چل نکلے اور وہ کسی کا مرہون احسان نہ ہو جول به بیند کار رفت از دست رین اختیار رفت از دست لیکن جب دیکھتا ہے کہ کام اس کی طاقت سے بہرے اور اختیار کی اسی اس کے اتھ سے نکل گئی ہے ور امار سوتے کو چڑیا ران مرد سے جوید از درد گاران تو اپنے دوستوں کی گلی کا مورخ کرتا ہے اور مرد گاروں سے مدد مانگتا زور دست بر اورال جویدا نزد سر کار دان ہے پویا ہے اپنے بھائیوں کے ہاتھوں کا زور تلاش کرتا ہے اور ہر واقف کار کے پاس دوڑ کر جاتا ہے۔ول بماند ز ہر طرف تا چار نالد آخر بلند گر دادار پھر جب ہر طرف سے لاچار ہو جاتا ہے۔تو آخر میں نمدا کے حضور روتا نعرہ با مے زند بحضرت پاک ماز نفری جبیں مند بر خاک اس پاک درگاہ کے سامنے نہیں مارتا ہے اور عاجزی سے ماتھے کو خاک پر رکھتا ہے