دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 117
- ها ور نه باز آز شورش و انکار جیفه کذب را محور زنهار درنہ فساد اور انکار سے باز آ۔اور جھوٹ کی سڑی ہوئی لاش کو ہرگز نہ کھا انتریت با خدا فقد سر کار خود نگه کن ترس نال ها دار آخر کار مجھے خدا سے ہی کام پڑے گا۔تو آپ ہی سوچ لے اور اس عادل سے ڈر در خرابات او قتادہ دے خود بخود چون بدل شود نہ نکلے دل شراب خانہ میں پڑھا ہوا ہے وہ دلدل میں سے آپ ہی کیوں کر نکل سکتا ہے د به باطل نهاده باز آ دل به بد روئے دارہ باز آ ول تو نے باطل کی طرف تو یہ کر رکھی ہے از آجر ایک بدصورت پر عاشق ہو گیا ہے تو باز آجا ور مزابل تتاوه بانه آ این کجا ایستاده باز آ رخواست کی کوڑیوں پر پڑا ہوا ہے باز آ کہاں کھڑا ہے بانہا آ آخر اسے لات زمان ز عقل و خرد برش کشی یا منه برون از حد ے قتل و خرد کی رات گزانت مارنے والے ہوش میں آ۔اور حد سے پاؤں باہر نہ رکھ در زون در ینال بائے محال است شوری مشری و ضلال کن باتوں کا دعوی کرنا پراطوران کی اور گمراہی اپنے سرکه رخت انگلند به دیمانه به دیمان سے نماید بتر نه ویدا هر خص ویرانوں میں اپنا ٹھکانا بناتا ہے وہ پاگلوں سے بھی بدتر ہے یوں نہیں سرزنی بی ام سحاب چندانی که آخر است حساب سے اس طرح کیوں انکار کرتا ہے کیا نہیں جانتا کہ آخر حساب دینا پڑے گا