دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 115

ستر سربستہ و دورائے درا که کشاید بدون دین محمد اور نہاں در نماں بھید خدا کی جی کے سوا کون کھول سکتا سازه ذرات نهای که گوید باز مجزه خدا ئیکه بهت محرم راز خدائیکہ اس مخفی ذات کا بھید کون ظاہر کر سکتا ہے سوائے اس خدا کے جو راز دان ہے مشت خاک فتاده است براه تند یا دے بجوید انه درگاه مانگنا سے ایک آدمی اتنا انسان ایک مشت خاک ہے جو راستے میں گرا ہوا ہے وہ خدا کی جناب۔تو نہ نمی ہنوز این سخت در دولت چون فروشوم چه کنم در تو ابھی میری یہ بات نہیں سمجھتا۔میں ترے دل میں کیونکر اُتر جاؤں نے ے دینا کہ دل ز درد گداخت در دما را مخاطب نشناخت درود مارا نہیں کہ ہمارا دل غم کے مارے گداز ہو گیا گر ہمارے درد کو مخاطب نے پھر بھی نہیں پہچانا ے تو رونے یار زود بر آ کر دل آزرد از شب یلدا که میلوان نے یار کے گھڑے کے سورج جلدی نکل کہ اندھیری بیات کی وجہ سے دل غمگین ہے۔دل یک نگاہ ہیں است در دیں ہا کاش دیدے کے زخوف خدا ند میوں کے معامہ میں ایک نظری کافی ہے کاش کوئی خدا کے نونت کے ساتھ ان کو دیکھتا ت کا راست کفر و ایماں ہم کلیت آشکار و پنہاں ہم کیر ابھی ظاہر ہے اور ایمان بھی۔یہ بات میں نے تجھے ظاہر بھی بتائی اور پوشیدہ بھی ترک خوب خدا و بد عملی این دو چیز اند تخم نیزه های کو کانوں ترک کر دنیا اور ہر سے عمل کرنا۔یہی دو چیزیں سیاہ دلی کا باعث ہیں