دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 115
۱۱۵ ستر سر بسته و درائے درا که کتاید بدون دین خدا الخفی اور نہاں دے نہال بھید خدا کی وحی کے سوا کون کھول سکتا ہے ر از ذات نهائی که گوید باز نجمه خدائی که بوست محرم راز اس مخفی ذات کا بھید کون ظاہر کر سکتا ہے سوائے اس خدا کے ہو راز دان ہے امش مشت خاکی ناده است براه شد با دی بجوید از درگاه انسان ایک مشت خاک ہے جو اسے ہی گرا ہوا ہے وہ خدا کی جناب سے ایک آدھی مانگتا ہے تو نہ قمی هنوز این سخم در دلت چون فروشوم چه تو ابھی میری یہ بات نہیں سمجھتا۔ میں ترے دل میں کیونکر اُتر جاؤں اسے درینا که دل ز درد گداخت درد ما را مخاطبی نشناخت کہ نہیں کہ ہمار اول غم کے مارے گانہ ہو گیا گر ہار سے درد کو مخاطب نے پھر بھی نہیں پہچانا ہمارادا اسے خود روئے یار زود بر آن که دل آزرد انه شب یلدا ے پیالہ کے کھڑے کے سورج جلدی نکل ۔ کہ اندھیری بات کی وجہ سے دل نمگین ایک نگاہے الے ہیں ہیں است در دیں ہا کاش دیدے کے ب خوب خدا رمیوں کے معامہ میں ایک نظر ہی کافی ہے کاش کوئی خدا کے خوف کے ساتھ ان کو دیکھتا آشکار است کفر و ایماں ہم گلیمیت آشکار و پنہاں ہم کیر بھی ظاہر ہے اور ایمان بھی یہ بات میں نے مجھے ظاہر بھی بتائی اور پوشیدہ بھی تریک توت خدا و به عملی این دو چیز اند تخم نیره ولی کا نوٹ ترک کر دینیا اور ہر سے عمل کرنا۔ یہی دو چیزیں سیاہ دلی کا باعث ہیں