دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 110
اک کلام خدا نه بر فلک است تا نگرانی که بست دور از دست خدا کی کلام آسان پرنہیں ہے۔ تاکہ تو یہ کہے کہ ہماری پہنچ سے دور ہے یا بونی که کار هست محال بر فلک رتنم کدام مجال | یا تم کہے کہ کام بہت مشکل ہے میری کیا طاقت کہ آسمان پر جا سکوں نے زیر زمیں کلام خدا تا بگوئی کہ چون نمیدم آنجا اور نہ تعدا کا کلام زمین کے نیچے ہے تاکہ تو کہے کہ میں وہاں کسی طرح گھروں چوں زنیر زمین برون آرم خود یہیں طاقتے نے دارم اسے میں زمین کی گہرائیوں میں سے کیونکر باہر نکالوں میں تو ایسی طاقت نہیں رکھتا قی وزیر تو کرده داور پاک نور برش آمدست بر سر خاک ائے قدوس نے تیرا عدد رفع کر دیا عرش کا نور زمین پر آگیا ہے گر ترا رحم آن بیان بکشد دولت سو کے ادبیاں بکشد اگر اس خدائے واحد کا رحم تھے کھینچ لیے میری خوش نصیبی اس نور کی طرف تجھے لے جائے ارحمن الله الله ه ریخت از انواس بست رشیح دگر در آن گفتار اللہ الہ کیسے کیسے انوار اس نے بکھیرے ہیں اس کلام میں تو اور ہی طرح کا فیضان ہے کیسے اس تو نویدنش کیسو رود در صد کتا اپنے زان رود اس کے دیکھنے سے جہالت دور ہو جاتی ہے اور اس کی زیارت سے سیکڑوں مشکلیں حل ہو جاتی ہیں نور بار آور و تلاوت او عالمے زیر بار مشت او اس کی تلاوت نور کا پھل لاتی ہے ایک جہان اس کے احسانوں کے پیچھے دیا ہوا ہے