دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 105
لذت خود بدرد نے بیند محسن در روئے زرد می بینید دے دہ اچھی لذت درد میں پاتے ہیں اور روئے زرد میں محسن دیکھتے ہیں۔تو کہ ہوں تو نگل فرومانی محبت آل یاں جے سے دانی تو جنگ سے کی طرح کی چڑ میں پھنسا ہوا ہے۔ان پہلوانوں کی ہمت کو کہاں جان سکتا ہے۔سبل باشد کایت از نظر مورد خواند آن کس که دو نیم با کرد غم سر درد کی باتیں کرتی آسان ہیں گرمی کا مزاد ہی جانتا ہے جسے غم پیش نہیں آفرین خدا یہ آں جانے کہ زر خود شند برائے جانا نے خدا کی رحمت ہو اُس جان پر جس نے انجوب کی خاطر خودی چھوڑ دی منزل یار خویش کرد بدل داد ہوا با رسید صد منزل ول میں یار کا ٹھکانا بنا لیا اور ہوا کہ ہوس سے سینکڑوں کی میں دور چلا گیا از خودی در شد خدا یافت گم شد و دست بنجار یافت مودی سے دور ہو گیا اور خدا کو پا لیا اپنے میں کھو کہ رہنا کے ہاتھ کو چہل کر لیا تو چه یابی که غافلی نہیں ماہ و از جلالی خدا نہ آگاہ اہان کہے گا کہ اس راستہ ہی سے فاضل ہے۔اور خدا کے جلال سے بھی واقف نہیں یال کیا ہمہ کارت بنقل خام افتاد ہمہ سنی تو نا تمام افتاد امیہ ت سے سارے کام عقل نام سے ہی وابستہ رہے اور تیری ساری کوششیں ناکام رہیں بو و طوطی نہیں سی باید است که بشر عاقل است آزاد ست ا کن رادست عملے کی طرح میں یہی بات یاد ہے کہ انسان عاقل ہے اور آزاد ہے