دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 76
44 ال کر نے کی خوارند است گفت توان خود که برایش نمیده وال میں نے اسے چھوڑ کر گل گل ارنا اور ان کی تم کہاں تم نے ان کی یہ ہی نہیں دیکھی اور ندیم نسبت اس دور که بینیم صد خود که به پیران او حلقه کشیده میں وہی سے اس زور خیر میں ہے کیا کیا کہ کیا کہ اس کے گر پی ٹی وی ار ای اقدامات کرتے ہیں ہے حالت پخت کسانیکر انان نورد سرنا خفته از نخوت و چو ته بریده وہ لوگ قیمت اور با نصیب ہیں جنہوں نے اس دور سے تکبر کی وجہ سے روگردانی کی اور تعلق توڑ لیا i در برا این احمد به حصه چهارم صدا و ر ا ور به وه داون ے سر خود کشیده از فرقان با نشاده به چه طیفان سپر به لپه اے دو میں نے قرآن کی طرف منہ پھیر لیا ہے۔اور سرکشی کے گڑھے میں پاؤں رکھا ہے ہانگ کم کم به پیش اور منی تو به کن از فسوس و بازیها نور ہدایت کے سامنے اتنی شیخی نہ ہار۔اور جستجو اور کھیل سے توہار کر این چه چیشم است کور دشت کبود کافتا بے درد چو ذره نمود یہ آنکھ کیسی اندھی اور منحوس ہے۔جس میں آفتاب ذرہ کے برابر نظر آتا ہے۔انگیری کناره زین ره د نو بہت دور از کنار کشتی تو جب تک تو اس طریقہ اور حلاوت کو نہیں چھوڑ اب تک تیری کشتی کنارے سے دور رہے گی اضایت شاد و کیس تا چند نشده و ازیت بدین تا چند با کی ایک تو اپنے خدا سے ہوتی اور رک سکے اور دین سے یہی نہیں تھا کت تک جاری رہے گا ب