دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 57

86 ہت آس آپ بتائیس نا پدید کس بجو مصباح حق رایش ندید وہ آپ حیات بالکل مفتی ہے۔اور اس کا راستہ خدائی چراغ کے بغیر کسی نے تمھیں کیا ان خیالاتے کہ بیتی از خود پر تو ہیں ہم زومی می رسد وہ خیالات ہو تو اپنی عقل سے معلوم کرلیتا ہے۔اُن کی روشنی بھی خدا کی وحی سے ملتی ہے۔ایک چشمہ دیت ہوں باز نیست ہیں دل تو حریم این ساز نیست لیکن نکہ تیری روحانی آنکھ کھلی ہوئی تھیں۔اس لیے تیرا دل اس راز سے واقف تھیں سرکشی از حق که من دا تا دلم | ماجت و میش نداریم ما ظمی تو خدا کا نا فرمان ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہیں دانا ہو اور اس کی بچی کی مجھے ضرورت تھی و قتل کیتا ہوں منوش تو حاجت پیدا کند | در دمے معقل تزار سوا کند مگر تیری خوش تھے حاجتمند بنادے گی اور دم بھر ہی تیری عقل کی قلعی کھول دے گی معقل تو گورے مبص از بیروں اندرونش بیست یک لاننے زبوں تیری عقل اس سے پختہ مقبرہ کی ماند خوشتا ہے مگر اس کے اندر کیا ہے؟ ایک گندی لاش منتہائے عقل تعلیم خداست بر صداقت را ظهور ان انبیاست خدا کی تعلیم ہی عقل کے کمال کو پہنچتی ہے۔اور انبیاء سے ہی ہر ساقت کا ظہور ہوتا ہے ر کر لی یافت از تعلیم یافت آفت آن روئے کو دور نے بتافت با زبان حال گوید روز گار اسے تقصیر عمر گیر آموزگار ! وقت نہ بان حال سے کہا ہے کہ اسے تھوڑی عمر والے انسان ! استناد پکڑ