دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 40
t - م امیر کی زیرہ توریت افزاید | مهر این مردگان چه کار آیدا اس زندہ کی قیمت تیرے نور کو بڑھائے گی۔ان مردوں کی محبت بھلا کس کام آئے گئی التمر و معده و سر و دستار سر بر بست بخشش دادار کھاتا۔معدہ سر اور دستار سب کی سب خدا کی بخششیں ہیں ! ان باری شناس و شرم ملا پیش زان کرد جهان به بندی بارا خالق کا حق پہچان اور شرم کہ اس سے پہلے کہ تو دنیا سے رخصت جو امداز و از چه رو برهانی سگ وفا می کند تو انسانی کیوں تو اس سے منہ پھیرتا ہے۔کتا بھی وفا کرتا ہے تو تو آدمی ہے ترس باید نه قادر ہے اکیلا ہر کہ عارف تریست ترساں تنہا قدمت والے خدائے پر تم سے خوف چاہیے۔جو زیادہ خدا شناس ہے وہی زیادہ ڈرتا ہے فاسقان در سیاه کاری اند عار قال در دعا و زاری اند کار لوگ بڑنے کا موں میں مشغول ہیں۔عارف لوگ دُعا اور زاری میں مصروف ہیں اسے خشک دیدہ کر گریانش اسے ہمایوں دے کہ بعد بالش ٹھنڈی رہے وہ آنکھ ہو اُس کے لیے روتی ہے مبارک ہے وہ دل ہو اس کے لیے جلتا ہے اسے مہارگ کے که طالب دوست فارغ از عمرو ز بد با رخ دوست | ابرکت ہے وہ جو اس کا طالب ہے۔اور عمرو زید کے خیال سے الگ ہو کر اس کے حضور میں رہتا ہے هر که گیرد رو خدائے میگاں ! | آن خدایش ہیں ست در دو جہاں | جو بھی خدا کے واحد کا راستہ اختیار کر گیا اس کے لیے خدا تعالی دونوں جہانوں میں کافی ہے