دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 32

۳۲ ا ا ا بمو طلب گار گردی به صدقی ملی انتخاب اندر اندیشه هم مشکلی سچے دل سے اس کا طلب گار ہو جائے اور خواب میں بھی اس سے غافل نہ رہے نگیری دسے استراحت اناں مگر چوں برقی بازیابی نخل اس کے بغیر تو ایک دم بھی چین نہ پائے یہاں تک کہ خدا کا نشان پا یواے مل بر ست تی است پول جناب ایک سال سراخند ماده مخاب موت تیرے سر پہ ہے اور تیری بہتی جاب کی مانند ہے مگر تو اسی طرح نیند میں ہوش ہے آباؤ اجداد پیشیں نگر که چون در گذشتند میں رہگذر که پول اپنے پچھلے باپ دادوں کو دیکھ کہ وہ کس طرح اس دنیا سے گزر گئے یادت نماند است انجام شان فراموش کردی در اندک زمان ان کا انجام تجھے یاد نہیں رہا اور تو نے تھوڑے ہی دنوں میں اُسے بھی بھلا دیا خودت با اصل میست از فکر و بند چه دیوار داری کشیده بلند مون کے مقابلہ میں تیرے پاس کیا ملے والے ہیں یا تو نے کوئی دیوار اس کے روکنے کے لئے بائی ہے چه ناگه نهنگ اجل در کشند چرا آدمی این چنین سرکشد جب اچانک موت کا گر مجھے رانسان کو کھینچ لے جاتا ہے تو پھر آدمی اتنا تکبر کیوں؟ دنیائے دوں دل مبند سے جواں تماشا نے آل بگذرد تا گہاں اسے جوان ! اس ذلیل دنیا سے دل نہ لگا کیونکہ چٹ پٹ اس کا تماشا ختم ہو جاتا ہے۔بدنیا کے جاودانه نماند به یک تنگ وضع زمانه نماند دنیا میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہا۔اور زمانہ کا سال ایک جیسا نہیں رہتا