دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 225
اس رسالے کئی صدر ست هم وایی پاکش به دست ما مراسم ، رسول جن کا نام محمد ہے۔اُس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے میر او با شیر شد انده مان جان شد و با جال بور خواهد شدن کار شد و بدر ان کی محبت مال کے دورہ کے ساتھ ہمارے بدن میں حال ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی ہم نکلے گے ست او خیر الرسل خیر الاہم مہر نبوت را برد شد انقلنام کو ہی خیر الوسیل اور خیرالانام ہے اور ہر ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تشکیل اُس پار ہو گئی اردو نوشیم ہر ہے کہ است نو شده میراب میر ہے کہ بست جو کبھی پانی ہے وہ ہم کسی سے لے کر چیتے ہیں جو بھی سیراب ہے وہ اُسی سے سیراب ہوا ہے آنچہ مار ادجی مریکا ئے ہودہ اس شد از خود از سماں جائے بود: کو وحی و الہام ہم پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں رہیں سے آتا ہے ما او یا نیم ہر نور و کمال و سی دلدار ازل ہے او محال ہم کر روشنی اور ہر کمال اسی سے حاصل کرتے ہیں محبوب اترنی کا وصل بغیر اس کے نامکون ہے۔خدا ئے قول او در جان ماست هر چه زود ثابت شود ایران است اس کے براد شاد کی پیروی ہماری فطرت میں ہے جو بھی ان کا فرمان ہے ہی پر بہار اور ا جاتا ہے انہ ٹانک داز خبر ہائے معاد سر چه گفت آن مرسل رب العباد د زشوں کے متعلق اور آخرت کے حالات کے متعلق ہو کچھ اس بیت العباد کے پیغمبر نے فرمایا تک ہمہه از حضرت احدیت است منکر آن مستحی لعنت است طب خدائے واحد کی طرح سے ہے اور ، اُس کا منکر محنت کا