دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 217

À ا لیکن این مرد خدا اپیل مقام کے کرد از کتاب تو سے سامنے لیکن یہ مرد خدا اور اہل صفا انسان میں نے ایک قوم کو جھوٹ سے آزاد کیا گفت مر جاتے زبونش شد پدید | قا درست اور جسم و جاں سا آفرید فرمان ہے کہ ہر روح خدا کے ہاتھ سے ظاہر کرتی ہے۔وہ قادر ہے ہی نے علیم اور روح کو پیدا کیا۔ترکی در گفته این کارخاں روچه تالی بر دید آریان تو بھی اللہ فاروں کی باتوں پر غور کر آریوں کے وجہ کے لیے کیوں روتا پھرتا ہے۔بود نانگ عارف و مرد غدا | راز ہائے معرفت راده گشته تانک ایک عارف اور با خدا مرد تھا۔اور معرفت کے بھیدوں کو کھولنے والی دید شمال را و معارف ڈور 7 سادہ کی ممانجانے ہے سفر دید اس مقایق و معارف سے بہت دور ہے وہ ہے بہتر تو غارت کی تعریف بھی نہیں جانتا این قیمت گرد یک بشنوی در در عالم از شقاوت بہا رہی اگر تو ناک کی اس تصیحت کونسی ہے۔تو دونوں جہان میں پرہستی سے نجات پائے او نه از خود گفت این گفتار را گوش او شنید این اسواره را اس نے اپنے پاس سے یہ بات نہیں کی بلکہ اس کے کانوں نے وفد کی طرف سے اس ساز کرتا ہے۔دید سالاد تزریق محور یافت از خدا ترسید و راه نور یافت اس نے دید کو خدا کے نور سے خالی پایا۔وہ خدا سے ڈر اور اس نے نور کا راستہ پا لیا اسے برا اور ہم تو سوئے او بیا دل پر بندی در جہان بے نقا ائے بھائی تو بھی اس کی طرف آ۔اسی ہے دنا دنیا سے کیا دل لگاتا ہے دست یکی طلاع المعطوف ۱۸۹۵)