دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 155
۱۵۵ کے ازہر تیس دن خود طرف گرفت رات میں ملی شدہ ہر رشتے جیتا میں ی نے اتے ہیں ان کی خار کی پہلی تیار کرلیا اس نے دین کا ہیل والی ہے اور ہر تھی کہیں گامی کو پیا اسے شامل چه آثار سلمانی نہیں سمت دیر میں انبر شما در جیفہ مونیا میں ا اور ایک ایسی سلامی کی علامتیں ہی دین کی بہتات ہے اور تم مروار دنیا سے چھٹے ہوتے ہو یا نگر از دل برودل کردید موبت اولیں یا تمہاری نظرمیں دینی کامل بہت مضبوط ہے ، شاید پہلو کی موت کا خیال تمہارے دل سے نکل گیا ہ در آن رییس کانون کار کنید دور نے تاکے ممیاں طیف ومر نہیں نے خاطر ہوت کا وقت قریب آگیا اس کی فکرکر جیسن اور حسین مورتوں کے ساتھ دو خراب کب تک چنتا ی خود است و یا دارای پوشاند و در بینی را بینی است انفاس پلیس اے عقلمند اپنے نفس کو دنیا کا تیدی مت بندوں بھرنے کے وقت بہت سختیاں برداشت کر لے گا اول ما ابدا کے کام کی درست تا سور دانی یا بی خیر الحسنین یابی ہے یں جو ہے سو اس کا عن المال ہے اور کسی کو دے کر ان کی خوشی ندا کے نیکی کرنے کا لاک کرنے ن خود مندی اور دیوان در پیش بود بر شارت اگر ست ہو نے آل پاریس ن وہ ایم نعمت ہے اس کی یہ کھالیا ن ہے اور وہ شخص ہوشیار ہے جو ان میں جنوب کے چہرہ کا گردیدہ ہے بہت امین کو آب نیا کا زوال سیر کو شید ست ادم کو دیو بندازین اس کے عشق کا جام یا دال آب حیات ہے میں نے اسے پی لیا وہ پھر ہر گز نہیں مرے کا سے برا یا منہ دیوار بنائے دوں تیر خوزی است در ہر قطرہ اس المیں اے بھائی اس دلیل دنیا کی دولت سے دل مانگا اس شہد کے ہر قطرہ میں زہر ملائل پھول ہوں۔+