دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 144
تم ۱۳۴۳ کور می شود ترک کن ہے بین اسے گرا بر خیزد آن شا ہے ہیں اپنی ناریتالی کو چھوڑ اور چاند کو دیکھ اسے فقیر آٹھ اور اس بادشاہ پر نظر ڈال رو ببین و قدر بین وعدہ ہیں از محاسن یا کے خوباں صدر ہیں چہرہ دیکھو۔قد دیکھ ، خود نمال دیکھ اور حسینوں والی سینکڑوں تو میاں حافظ کر یکردم از نود و در شو بهر خدا اگر نوشی تو کاسات نما تھا خدا کے لیے اپنے نفس سے بجلی کنارہ کشی کرے۔تا کہ تو وصل کے جام نوش کرے دین حق شہر ندائے امجد است داخل او در امان ایزد است دین بھی تو خدائے بزرگ دیرتر کا شہر ہے جو اس میں داخل ہو گیا وہ خدا کی امان میں آگیا۔دور سے در سے نیک خوش اسلوبی کند کچھ خود تو یاد جو بے کند اوہ از یک دور میں ایک او یو شخصان کر دیا ہے اور اپنی طرح کا حبیبی اور محبوب بنا دیتا ہے جانب اہل سعادت لیے بزن آشوری سونے کے بعد اے جان من لوگوں کی طرف قدم اُٹھا تا کہ اسے میری جان ایک دن تو بھی سجید ہو جائے مید سے اداکارہ کی از کود نی رو در حق زن چہ اس سے زنی شخص ہو تو ونی کی وجہ سےسخت انکاری مشقت ہے کیوں جھک مارا ہے جا اور خدا کا دروازہ کھٹی تا لہ با کن کا ے خداوند یگاں بنگلان از پائے میں بند گراں فراد کہ کر اسے خدائے لاشریک میرے پیروں کی بھاری نہ بخبریں کھول دے ا گرتان نادیہ نے درد ناک دست نیلے گرد ناگر زناک شاید اس دردناک آہ و زاری سے ایک منیبی ہاتھ تجھے زمین پر سے اٹھائے