دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 116
ور نہ دور نہ رونے نگار نیت نہاں ہر جا ہے نکست اسے بیچاں زیست در نه محجوب کا چہرہ تو چھپا ہوا نہیں ہے اسے مردہ دل جو بھی پردہ ہے وہ خود تیری طرف سے ہے اور رگ جاں قریب تریاد است سرزده از تو درسازی کار است تو شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے محض تیری بیہودگی نے بات لمبی کر دی ہے هرکه بر خواست از خودی کی بار خود نشیند بکار او دا دار به یکبار بو یک دم اپنی خودی سے الگ ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کا کام خود سنبھال لیتا ہے۔حی و تقوم و قادر است نگار تو مپندار مردہ اسے مردان اوہ محبوب تو می د قوم اور قادر ہے۔اسے ذلیل انسان تو اسے مردہ سمجھے میل رفتن گرست جانب یار جانب صدق را عزیز بدار اگر مجھے یاد کی طرف جانے کا شوق ہے تو رہتی کے پہلو کو مقدم رکھ اور شکے بہت خیز و تجربه کن تا سکوتت بر آورم از من و اگر کچھ شبہ ہے تو اٹھ اور تجربہ کرے تاکہ میں ترے شکوک جڑ سے نکال پھینکوں گر خود پاک از خطا بود سے سر خود مند با خدا بود سے اگر عقل غلطی سے پاک ہوا کرتی۔تو چاہیے تھا کہ ہر عقلمند با خدا ہوتا کی نیست از دو جل و سود خطا جز خداوند عالم الاشيا کی کوئی بھی بھول چوک اور غلطی سے چاہیں نہیں سوائے اس خدا کے جو ہر چیز کا علم کھتا ہے بڑے کن درد نے استقرا ر کے رسته است راز نما استقرا کی رُو سے غور کری اگر کوئی ان باتوں سے بچا ہے تو تو ہی بتا دے له استراد چند افراد پر تجربہ کر کے سب لوگوں پردی تا من نافذ کرنا قاعده