دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 114

کے پسند و خورد که آن اکبر شهرته نفت از طفیل بشر ال اس امر کی طرح تیم کرسکی ہے کہ خدا نے انسان کے طفیل ساری شہرت حاصل کی ہے اشتباه است داشت و کمر درداں چوں خوابی نبیلت اسے ناداں میری بات ہے حمل ہے اور درندوں کا ڈر اسے نادال پھر تو کیوں غفلت کی نیند سو سنتا ہے۔نیز و بر حال خود نگاه بکن خطر ماه ببین و آه یکن بار آٹھ اور اپنے حال پر نظر کر راستہ کے خطرات دیکھ اور آہیں بھر خیر و از نفس خود بپرس نشان که چه خواهد مراتب عرفان الہ اور اپنے نفس سے ہی یہ بات پوچھ کہ وہ معرفت کے کیسے کیسے درجے ہاتا ہے۔سے تیدا زیرا کے رقبے حجاب یا قیامش بس است در سر باب زیادہ حجاب دور ہونے کے لیے تڑپ رہا ہے یا ہر بات میں دو قیاس کو ن کو کافی سمجھتا ہے الا تبصرون گفت خدا نیزو در نفس بو تعطش دا نے افلا تبصرون فرمایا ہے اٹھ اور اپنے نفس کی پیاس کی حقیقت مو تو اسیری بعد بنزار خطا سر خطائے بہتر نہ از مدیا اڑھا تو لاکھوں غلطیوں میں گرفتار ہے اور ہر غلطی از دموں سے بھی زیادہ خطرناک میای کوردی است و بے بصری کہ ازیں کا بر تمام بے خبری امامت ہے یہ اندھا پن اور نا بینائی مجیب طرح کی ہے کہ تو ہیں کچھی بات سے بھی بے خبر ہے اسخون است من نظاست تو نه نمی سخن خطا اینجا است کچھ ہے غلط نہیں ہے غلطی یہ ہے کہ تو بات کو نہیں سمجھتا