دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 110

| الک کا می دانه برفانک است نگرانی کرب و دور از دست ستا بہت دا کا نام آسمان پرنہیں ہے۔تاکہ تو یہ کہے کہ ہماری پہنچ سے دور ہے یا جوانی که کار بست محال برفک رفتیم کدام جمال ا تو کہے کہ کام بہت مشکل ہے میری کیا طاقت کہ آسمان پر جاسکوں نے بریر زمیں کلام خدا تا بگوئی کہ چول تقویم آنجا نہ۔اور نہ خدا کا کلام زمین کے پیچھے ہے تا کہ تو کہے کہ میں دیاں کس طرح گھسوں چول از نظیر زمیں بروں آرم خود نہیں طاقتے نے دارم ے میں رمین کی گہرائیوں میں سے کیونکر باہر نکالوں میں تو ایسی طاقت نہیں رکھتا لی مدیر تو کرده دا و به پاک کوروش آمدست بر سر خاک خدائے قدوس نے تیرا فقد رفع کر دیا عرش کا زور زمین پر آگیا ہے۔گر ترا ریم آن بیگاں بکشد دولت سوئے ادیتیاں بکشد اگر اس خدا کے والد کا رح تجھے کسی نے تیری خوش نصیبی ای نو کی اور تجھے لے جائے الله الله ه ی نخست از انواس بست رشیح دگر در آن گفتار لہ الہ کیسے کیسے انوار اس نے کھیرے ہیں اس کلام میں تو اور ہی طرح کا فیضان ہے صل گرد و نو دید کشن کیسو رود هر صد کتا پہنے ڈال روا نروید بہ یس کے دیکھنے سے جہالت دور ہو جاتی ہے اور اس کی زیارت سے سیکڑوں شکلیں مل ہوجاتی ہیں نور بار آور و تلاوت او عالمے نہ ہو بار منت أو ہیں کی تلاوت نور کا پھل لاتی ہے ایک جہان اس کے احسانوں کے پیچھے دیا ہوا ہے