دُرِّ عَدَن — Page 81
81 در عدن ایک مجاہد کی جدائی پر [ اسی گزشتہ جلسہ سالانہ کے قریب ایک صبح آنکھ کھلتے کھلتے یہ مصرع میری زبان پر تھا۔غلامی از غلامان محمد ں سے پہلے کوئی خواب دیکھا ہو تو وہ فراموش ہو چکا تھا، بظاہر اس میں کوئی قابل تشویش پہلو محسوس ہونا ضروری نہ تھا تا ہم میرے دل پر اچھا اثر نہ تھا۔وہم آتے رہے۔دعا کی مگر خیال سالگا رہا۔چوہدری فتح محمد سیال صاحب مرحوم کی اچانک وفات کی خبر پر اس خواب والے مصرعہ پر چند اشعار اس صدمہ کی حالت میں آخر صورت پذیر ہو گئے جو درج ذیل ہیں۔اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے کسی کا بچہ وفات پا جائے تو دعادی جاتی ہے کہ خدا نعم البدل دے مگر میرے خیال میں ان بیش قیمت خدام دین کی وفات پر اس سے بھی بڑھ کر تڑپ کے ساتھ ہر احمدی کے دل سے یہ دعا نکلنی چاہئے کہ الہبی ہم کو تم البدل دے۔ایک نہیں بلکہ ایک کے عوض ہزاروں۔آمین۔مبارکہ ] جواں مردے ز مردان محمد غلام از غلامان محمد یکے از عاشقان روئے احمد یکے از جاں شارانِ محمد سنا ہے آج رخصت ہو گیا ہے نبھا کر عہد و پیمان محمد۔بسرعت سوئے جنت اڑ گیا ہے مجاہد طیر پران محمد