دُرِّ عَدَن — Page 69
ایسی باتیں جن سے پھٹ جاتا ہے پتھر کا جگر بر سے سنتا رہا ماتھے پہ بل آیا نہیں کوئی پوچھے کس گنہ کی اس کو ملتی تھی سزا؟ کس خطا پر تیر برسائے؟ گروہ ظالمیں! گریه یعقوب نصف شب خدا کے سامنے صبر ایوبی برائے خلق با خندہ جبیں صرف کر ڈالیں خدا کی راہ میں سب طاقتیں جان کی بازی لگا دی قول پر ہارا نہیں پر ارض ربوہ جس کی شاہد ہے وہ معمولی نہ تھا خونِ فخر المرسلیں تھا شیر اُم المومنیں آج فرزند مسیحائے زماں بیمار ہے دعوی داران محبت سو رہے جا کر کہیں؟ قوم احمد جاگ تو بھی، جاگ اس کے واسہ ان گفت راتیں جو تیرے درد میں سویا نہیں ہو دعائے دردِ دل سالم رہے قائم رہے وو یہ دعائے احمد ثانی نوید اولیس (آمین) در عدن ( الفضل جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۵۷ء ) 69