دُرِّ عَدَن — Page 65
65 شعلہ جو دل میں بھڑکتا ہے دبا دو اس کو جھوٹ پر آگ جو لگتی ہے بجھا دو اس کو ضبط کی شان کچھ اس طرح نمایاں ہو جائے آپ سے آپ ہی دشمن بھی ہراساں ہو جائے آج جو شیخ ہے بے شک وہی کل شیریں ہے تلخ سچ کسی نے ہے کہا ”صبر کا پھل شیریں ہے“ کیا یہ بہتر نہیں مولا ترا ناصر ہو جائے نامرادی عدد خلق کر صبر کہ اللہ کی نصرت آئے ظاہر ہو جائے در عدن تیری کچلی ہوئی غیرت پہ وہ غیرت کھائے وہ لڑے تیرے لئے اور تو آزاد رہے خوب نکتہ ہے یہ اللہ کرے یاد رہے لب خاموش کی خاطر ہی وہ لب کھولتا ہے جب نہیں بولتا بندہ تو خدا بولتا ہے (مبارکه ۳ /جون ۱۹۳۹ء) نوٹ : ماہنامہ خالد ربوہ ماہ نومبر۱۹۵۷ء میں بینظم کچھ اختلاف سے شائع ہوئی ہے۔