دُرِّ عَدَن — Page 50
در عدن رخصتانه مندرجہ ذیل چند اشعار میری بھتیجی عزیزہ امتہ النصیر سلمہا اللہ (جوسارہ بیگم مرحومہ کے بطن سے ہیں ) کی رخصتی کے دن قدرتی دردمندانہ جذبات کے ماتحت کہے گئے جور بوہ میں شادی کی محفل میں پڑھے گئے۔(مبارکہ بیگم ۲۹ جنوری ۱۹۵۲ء) (1) بزبان حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ راحتِ جاں نور نظر تیرے حوالے یارب میرے گلشن کا شجر تیرے حوالے اک روٹھنے والی کی امانت تھی میرے پاس اب لختِ دل خستہ جگر تیرے حوالے ظاہر میں اسے غیر کو میں سونپ رہا ہوں کرتا ہوں حقیقت میں مگر تیرے حوالے پہنے ہے یہ ایمان کا ، اخلاق کا زیور لعل الماس و گہر تیرے حوالے شاخ قلم کرتا ہوں پیوند کی خاطر اتنا تھا مرا کام "شمر" تیرے حوالے 50