دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 29 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 29

29 در عدن ہوش مندانِ جہاں کو تو نے دیوانہ کیا خانه فطنت" بسا اوقات ویراں کر دیا کون دیتا جان دنیا میں کسی کے واسطے تو نے اس جنس گراں مایہ کو ارزاں کر دیا ختم ہیں تجھ پر جہاں کی شوخیاں عیاریاں تو نے عیاروں کو نالاں کر دیا آگرا جو آگ میں تیری وہ بھن کر رہ گیا جانتے تھے جو نہ رونا ان کو گریاں کر دیا اے جنوں! دیوانہ ہو کر ہوش آیا ہے مجھے میں ترے قربان! تو نے یہ تو احساں کر دیا تیری خوں خواری مسلّم ہے تب عشق شدید خود تو ہے کافر مگر ہم کو مسلماں کر دیا ہر جگہ ہے شور تیرا کیا حقیقت کیا مجاز مشرک و مسلم سبھی کو ”سینہ بریاں“ کر دیا وہ مسیحا جس کو سنتے تھے فلک پر ہے مقیم “ 66 لطف ہے اس خاک سے تو نے نمایاں کر دیا ( الفضل ۲ مارچ ۱۹۴۰ء )