دُرِّ عَدَن — Page 102
در عدن 102 ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کی نومولود بچی کی وفات پر حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کی لڑکی کی ولادت پر جذبات پر مسرت کا اظہار بذریعہ پاکیزہ اشعار فرمایا تھا۔اب اس بچی کی وفات پر اظہار رنج و افسوس بھی کیا ہے اور ایک خط ڈاکٹر صاحب کو لکھا۔چونکہ اس کا مطالعہ ہر ایک کے لئے موثر و مفید ہو سکتا ہے اس لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔(الفضل ۹؍ دسمبر ۱۹۲۷ء ) پرسوں آپ کا کارڈ اور نھی عزیزہ مرحومہ کی وفات کی خبر معلوم ہوئی دل کو بہت صدمہ ہوا۔مجھے اس بچی کو دیکھنے کا کس قدر شوق تھا جس کی آمد پر ہم سب نے خوشی منائی مگر افسوس اس کو دیکھنا بھی نہ ملا اور وہ چند روزہ مہمان سب سے بے ملے ہی رخصت ہو گئی۔انا للہ و انا اليه راجعون۔شائد ہم لوگوں کی زیادہ خوشی میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی بھید پوشیدہ تھا کہ یہ بہت جلد رخصت ہو جائے گی۔جیسا کہ جلد رخصت ہونے والے مہمان کی زیادہ آؤ بھگت کی جاتی ہے اور زیادہ اظہار مسرت کیا جاتا ہے کیونکہ خاطر مدارات کے لئے نہایت کم عرصہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ آپ کو نعم البدل عطا کرے۔بچی کی والدہ کو بہت صدمہ ہوگا، کیونکہ قاعدہ ہے کہ گود کا بچہ ماں کو زیادہ محبوب ہوتا ہے اور اس کی وفات کا صدمہ خواہ دیر پا نہ ہومگر شد ید ضرور ہوتا ہے۔اغلبا یہ وجہ ہے کہ علاوہ روحانی رشتہ کے ابھی جسمانی تعلق قطع ہوئے بھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہوتا اور ابھی وہ گویا تازہ حصہ جسم ہوتا ہے۔میری طرف سے بہت بہت اظہار افسوس کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو صبر واطمینان بخشے۔جو خدا کو منظور ہو وہی ہوتا ہے۔چار شعر اس کی یاد میں ارسال ہیں، کبھی کچھ کہنا پڑتا ہے کبھی کچھ۔خدا کی رضا جو چاہتی ہے کراتی ہے۔ٹال سکتا ہے کون فرمانِ خدا کس طرح پوری نہ ہوتی سرنوشت آگئی تھی چند روزہ سیر کو پر اسے بھائی نہیں دنیائے زشت ہاتھ ملتے تھے ادھر تیماردار سر پکتی تھی ادھر وہ خوش سرشت کل گئیں آخر قفس کی کھڑکیاں اڑ گئی وہ بلبل پانچ بہشت (مبارکه بیگم )