دُرِّ عَدَن — Page ix
در عدن لقب عزت کا پاوے وہ مقرر یہی روز ازل سے ہے مقدر خدا نے چار لڑکے اور یہ دختر عطا کی پس یہ احساں ہے سراسر 11 الہام ” نواب مبارکہ بیگم“ میں یہ اس پہلو کی طرف بھی اشارہ تھا کہ آپ نوابی خاندان میں بیاہی جائیں گی۔چنانچہ ۷ ارفروری ۱۹۰۸ء کو آپ غیر متوقع طور پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ رئیس مالیر کوٹلہ سے بیاہی گئیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود العلا کے الہام میں ”حجۃ اللہ کے لقب سے نوازا تھا اور جن کی جب میں نے یہ مختصر تعارف حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ملاحظہ کے لئے بھیجا تو آپ نے تحریر فرمایا: نواب مبارکہ بیگم کا لقب نوابی خاندان میں شادی کے سلسلے میں میرے لئے ہرگز قابل فخر نہیں۔صرف نواب کوٹلہ والے ! مجھے تو میرے خدا نے ایک نام دیا۔اس کے بہت مبارک اور وسیع معنے ہوں، خدا کرے۔ویسے میرے میاں مرحوم کی جوقد روعزت ان کے اعلی ایمان کو دیکھ کر میں نے پہچانی وہ کسی نے نہ پہچانی ہوگی۔ان کی وہ شان مومنانہ میری نظر میں نوابی سے کروڑوں درجے بڑھ کر تھی اور ہے۔“ اس تحریر کے پیش نظر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم و مغفور کے ان پاکیزہ احساسات اور مقدس جذبات کا بھی کچھ ذکر کر دوں جن کا اظہار انہوں نے حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ سے عقد نکاح ہو جانے کے بعد کیا تھا۔آپ نے ۷ارفروری ۱۹۰۸ء کو بروز دوشنبہ اپنی ڈائری میں لکھا: یہ وہ فضل اور احسان اللہ تعالیٰ کا ہے اگر میں اپنی پیشانی کو شکر کے سجدے کرتے کرتے گھساؤں بھی تو خدا تعالیٰ کے شکر سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔میرے جیسا نابکار اور اس کے ساتھ یہ نور۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص رحم اور فضل ہے اے خدا اے میرے پیارے مولیٰ اب تو نے اپنے مرسل کا مجھ کو داماد بنادیا ہے اور اس کے لخت جگر سے میرا تعلق کیا ہے تو مجھ کو بھی نور بنا دے کہ اس قابل ہوسکوں۔رضی اللہ عنہ (شمس)