دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 1 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 1

در عدن التجائے قادیاں یہ نظم الفضل“ 29 جولائی 1924 ء میں شائع ہوئی تھی اور الحکم 7 /اگست 1924ء میں میرے مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع ہوئی اور یہ نظم حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی نظم "یاد قادیان کے جواب میں تھی جو آپ نے سفر یورپ میں کہی تھی جس کا پہلا شعر ہے۔ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں اور آخری شعر ہے مدعائے حق تعالی مدعائے قادیاں جب کبھی تم کو ملے موقعہ دعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہل وفائے قادیاں جناب بیگم صاحبہ نے مندرجہ ذیل نظم ایسی حالت میں کہی جب کہ آپ کی طبیعت علیل تھی۔اس نظم میں آپ نے قلبی کیفیات کا اظہار کیا ہے اور جس سوز وگداز سے یہ ظم کہی گئی ہے اور جس قسم کی اضطرابی اور بے قراری دل کا اور انتہائی درجہ کی محبت کا اس میں اظہار کیا گیا ہے وہ قارئین کرام پڑھ کر معلوم کر سکتے ہیں اور حقیقت میں یہ نظم تمام جماعت کے قلبی جذبات کا آئینہ ہے۔خدا تعالیٰ ان الفاظ کو جلد سے جلد قبولیت کا جامہ پہنائے اور ہماری روح رواں کو مظفر اور منصور با صد کامیابی و کامرانی واپس دار الامان لائے۔شمس