دُرِّ عَدَن — Page 80
در عدن بھولے بھالے منہ سے وہ باتیں نرالی آن سے ننھے منے پاؤں سے چلنا وہ اس کا شان سے کشتی عمر رواں یکدم کدھر کو مڑ گئی اک ہوا ایسی چلی کہ گھر کی رونق اڑ گئی چار دن ہنس کھیل کر مشہود رخصت ہو گئے کھل کے گلہائے مسرت داغ حسرت دے گئے نقش دل پر ایک تصویر خیالی رہ گئی گود ماں کی بھر کے پھر خالی کی خالی رہ گئی اپنی رحمت سے الہی جلد دے نعم البدل یہ دل فرقت زدہ بے چین پھر پا جائیں کل 80 الفضل ۱۲ مارچ ۱۹۶۴ء) گل بمعنی سکون و آرام