دُرِّ عَدَن — Page 67
67 در عدن وہ لب جاں بخش کہہ کر قم باذنی چپ ہوئے ہجر کے ماروں کو اب کوئی جلائے گا نہیں؟ کون دکھلائے گا ہم کو آسمانی روشنی؟ چودھویں کا چاند چھپ جائے گا اب زیر زمیں وو دونوں ہاتھوں سے لٹائے گا خزانے کون اب؟ تشنہ روحیں کس سے لیں گی آب فیضان معیں؟ منحنی اٹھا اک جوان (۲) بعرم استوار اشکبار آنکھیں لبوں پر عہد راسخ دل نشیں شوکت الفاظ بھرائی ہوئی آواز میں کرب وفخم میں بھی نمایاں عزم و ایمان و یقیں میں کروں گا عمر بھر تکمیل تیرے کام کی میں تری تبلیغ پھیلا دوں گا بر روئے زمیں زندگی میری کٹے گی خدمت اسلام میں وقف کردوں گا خدا کے نام پر جانِ حزیں