دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 54 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 54

در عدن گالیاں کھا کر دعا دو ، پا کے دکھ آرام دو“ روز دل پر تیر کھاؤ، حکم ہے دلدار کا نوک خامہ سے سلجھتی گتھیاں دیکھا کئے خوب تار و پود بگڑا دجل کی سرکار کا جھوٹ کے منہ سے اتر نے جب لگی پھٹ کر نقاب ہو گیا دشوار سینا اس کے اک اک تار کا ساپ کی مانند بل کھاتا ہے ابلیس لعین دیکھ کر رنگ جمالی احمد مختار کا حق و باطل میں کرے گی چشم بینا امتیاز ہو گیا آخر نمایاں فرق ” نور و نار“ کا 54 الفضل‘۲۷ جولائی ۱۹۵۲ء)