دُرِّ عَدَن — Page 43
43 تسکین دل و راحتِ جاں مل ہی نہ سکتی آلام زمانہ سے اماں مل ہی نہ سکتی مایوس کبھی پروا نہیں باقی نہ ہو بے شک کوئی چارا کافی ہے ترے دامنِ رحمت کا سہارا تیرے سوالی نہیں پھرتے بندے تری درگاہ سے خالی نہیں پھرتے در عدن مالک ہے جو تو چاہے تو مردوں کو جلا دے اے قادر مطلق! مرے پیاروں کو شفا دے ہر آن ترا حکم تو چل سکتا ہے مولیٰ وقت آ بھی گیا ہو تو وہ ٹل سکتا ہے مولیٰ تقدیر یہی ہے تو یہ تقدیر بدل دے تو مالک تحریر ہے ”تحریر بدل دے (آمین) ( الفضل،۳ / مارچ ۱۹۴۹ء)