دُرِّ عَدَن — Page 40
در عدن تمہیں سلام جوار مرقدِ شاہ زماں میں رہتے ہو و دعا ہے نصیب صبح و مسا شیں جہاں کی ” شب قدر“ اور دن عیدیں جو ہم سے چھوٹ گیا اس جہاں میں رہتے ہو کچھ ایسے گل ہیں جو پژمردہ ہیں جدا ہو کر انہیں بھی یاد رکھو ” گلستاں میں رہتے ہو تمہارے دم سے ہمارے گھروں کی آبادی تمہاری قید صدقے ہزار آزادی دد بلبل ہوں صحن باغ سے دور او سے دور اور شکستہ پر پروانہ ہوں چراغ سے دور اور شکستہ پر 6 40 (الفضل_۵/جنوری ۱۹۴۰ء)