دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 21 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 21

21 در عدن تو وہ آئینہ ہے جس نے منہ دکھایا یار کا جسم خاکی کو عطا کی روح اے جانِ جہاں! تا قیامت جو رہے تازہ تری ہے تو ہے روحانی مریضوں کا طبیب جاوداں ہے یہی ماہ میں جس پر زوال آتا نہیں ہے یہی گلشن جسے چھوٹی نہیں بادِ خزاں کوئی راہ نزدیک تر راہ محبت سے سے نہیں، خوب فرمایا یہ نکتہ مہدی آخر زماں یہ دعا ہے میرا دل ہو اور تیرا پیار ہو میرا سر ہو اور تیرا پاک سنگِ آستاں لم جموں کاسل، شملہ میں کہی گئی تھی۔( روز نامہ الفضل قادیان ۲۵ را کتوبر ۱۹۳۰ء)