دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 110 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 110

در عدن احسن سمجھ سمجھ رہے ہیں ہر امر قبیح کو وقت آ چکا ہے دیر سے بھیجو میسج کو جاتا ہے وقت ہاتھ سے دن گزرے جاتے ہیں عیسیٰ نہ آج آتے ہیں نہ کل ہی آتے ہیں آقا جو بے رخی تیری جانب سے پاتے ہیں ہنستے ہیں غیر اب ہمیں دشمن بناتے * ہیں اب تاب صبر کی ہمیں بالکل رہی نہیں آفت وہ وہ کونسی ہے جو ہم نے سہی نہیں قبضے میں اپنے کوئی حکومت نہیں رہی ہم لٹ گئے ہماری وہ عزت نہیں رہی تازہ ستم ہے کہ خلافت نہیں رہی ملک ہم چھن گئے شوکت نہیں رہی روتے ہیں خلد میں عمر و عاص زار زار خالد کی روح جوش میں آتی ہے بار بار بناتے ہیں یعنی بیوقوف بناتے ہیں ، تضحیک و تمسخر کرتے ہیں۔110