دُرِّ عَدَن — Page 68
در عدن 68 یہ ارادے اور اتنی شان ہمت دیکھ کر اس گھڑی بھی ہو رہے تھے محو حیرت سامعین درد میں ڈوبی ہوئی تقریر، سن سن کر جسے لوگ روتے تھے ملائک کہہ رہے تھے ” آفریں“ چشم ظاہر میں سے پنہاں ہے ابھی اس کی چمک تیری قسمت کا ستارا بن چکا ماہ میں (۳) اک بار گراں لینے کو آگے ہو گیا ناز کا پالا ہوا ماں باپ کا طفل حسیں کر نہیں سکتا کوئی انکار عالم ہے گواہ جو کہا تھا اس نے آخر کر دکھایا بالی ذات باری کی رضا ہر دم رہی پیش نظر خلق کی پروا نہ کی خدمت سے منہ موڑا نہیں النفير چیر کر سینے پہاڑوں کے بڑھے اس کے قدم سینہ کوبی پر ہوئے مجبور اعدائے لعیں دشمنوں کے وار چھاتی پر لئے مردانہ وار پشت پر ڈستے رہے ہر وقت مارِ آستیں