دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 53 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 53

53 در عدن کر دیئے سینے سپر مرتے گئے بڑھتے گئے منہ پھرایا کفر کے ہر لشکر جرار کا آسماں شاہد ہے ہاں اب تک زمیں کو یاد ہے کانپ جانا نعرہ تکبیر سے کفار کا عشق میں تحلیل روحیں چور زخموں سے بدن شمشیر میں پیغام دینا یار کا سات ابر رحمت ہو کے جب سارے جہاں پر چھا چکے دیا شیطاں نے ہنس کر زور تھا تلوار کا“ پھر نئی صورت میں ظاہر جلوۂ جاناں ہوا نور پھر اترا جہاں میں ”مبدء الانوار کا چن لیا اک عاشق خیر الرسل شیدائے دیں جس کی رگ رگ میں بھرا تھا عشق اپنے یار کا حکم فرمایا ”قلم تھامے ہوئے میداں میں آ“ صفحہ قرطاس سے رڈ کر عدو کے وار کا پھینک کر شمشیر و خنجر آج دنیا کو دکھا جذب صادق رعب ایماں عاشقان زار کا