دُرِّ عَدَن — Page 100
در عدن 100 ایک تحریک پر بھائیوں کی یاد میں [ حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے اپنی ناسازی طبع کے باوجود اپنا تازہ منظوم کلام اور اس سے متعلق ایک بیش قیمت نوٹ الفضل میں اشاعت کی غرض سے عنایت فرمایا ہے جوذیل میں ہدیہ قارئین کیا جارہا ہے۔] نوٹ: ایک بہت پرانی دوست جو قریبی عزیز ، میرے میاں مرحوم کی بھتیجی ہیں ان کے خط کے ایک مصرعہ آخری لکھا تھا پھر چار شعر ہو گئے انہوں نے لکھا تھا عرصہ سے آپ کے خطوط میں وہ بات نہیں رہی نہ وہ مزاح کا رنگ، نہ چمک ، نہ شوخی ، نہ وہ مزے کی باتیں۔کیا ہوا! کیا بات ہے؟ ان کی تحریر نے وجہ کی یاد دلا دی اور اس وقت بھائیوں کی یاد خصوصاً سب سے زیادہ محبت کرنے والے بہت خیال رکھنے والے حضرت بڑے بھائی صاحب ( حضرت مصلح موعود ) کی یاد آئی۔ان کا ہر بات دل کی کرنا، پرانی باتیں سننا اور سنانا یاد آ گیا، گوتینوں بھائیوں کی یہی کیفیت تھی بہت محبت کی ، بہت قدر کی، بہت ہمدردی پیار سب سے ہی سب کی یاد نے افسردہ کر دیا۔خصوصا اس خاص وجود کا خاص پیار بچپن سے اب تک جن کا گود میں اٹھانا بھی یاد آتا ہے آج تک۔باہر لا ہور وغیرہ گاہے میرے بچپن میں بھی جاتے تو کبھی کھلونے اور کبھی اچھے اچھے کریکرز جن میں سے پیاری پیاری چیزیں نکلتی تھیں لاتے۔ہر شکایت ، ہر بات میں ان کے پاس یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کرتی تھی۔گویا یہ بھی باپ اور بھائی کی محبت کا مجموعہ تھے اور بڑی ہوئی تو خاص دوست کی صورت بھی شامل ہوئی۔اللہ تعالی میرے بھائیوں کے درجات بلند سے بلند فرمائے۔ان کی اولادیں سلامت رہیں، نیک رہیں، سچے دل سے خادم دین رہیں،