درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 62

مسلم است مرا از خدا حکومت عام که من مسیح خدایم که بر سما باشد ke man Maseehe khodaayam ke bar samaa baashad mosal-lam ast maraa az khodaa hokoomate 'aam خدا کی طرف سے میری حکومت ثابت ہو چکی ہے کیونکہ میں اس خدا کا مسیح ہوں جو آسمان پر ہے بدیں خطاب مرا ہرگز التفات نبود چه جرم من چو چنیں حکم از خدا باشد che jorme man choo choneeN hokm az khodaa baashad badeeN khetaab maraa hargez iltefaat nabood مجھے اس خطاب کا ہرگز کوئی شوق نہ تھا لیکن میرا کیا قصور ہے جب کہ خدا کی طرف سے ایسا ہی حکم ہے نتاج و تخت زمیں آرزو نمیدارم نه شوق افسر شاہی بدل مرا باشد betaajo takhte zameeN aarzoo namidaaram na shauqe afsare shaahi bedil maraa baashad میں کسی زمینی تاج و تخت کی خواہش نہیں رکھتا نہ میرے دل میں کسی بادشاہی تاج کا شوق ہے مرا بس است که ملک سما بدست آید که ملک و ملک زمین را بقا کجا باشد maraa basast ke molke samaa bedast aayad ke molko milke zameeN raa baqaa kojaa baashad میرے لئے یہی کافی ہے کہ آسمانی بادشاہت ہاتھ آ جائے کیونکہ زمینی ملکوں اور جائدادوں کو بقا نہیں ہے حواتم بفلک کرده اند روز نخست کنوں نظر بمتاع زمین چرا باشد konooN nazar bemataa'e zameeN cheraa baashad hawaalatam befalak karde-aNd rooz-e nakhost جبکہ خدا نے مجھے روز اول سے آسمان کے حوالہ کر دیا ہے تو اب دنیاوی پونچی پر میری نظر کیونکر پڑ سکتی ہے لے حکومت عام اور حاکم عام سے مراد ظاہری حکومت نہیں بلکہ وہ بادشاہت اور حکومت ہے جو برگزیدوں کو آسمان سے دی جاتی ہے۔خدا کے کامل پیارے آسمان پر اپنی بادشاہت رکھتے ہیں گو زمین پر ان کو سر رکھنے کے لئے بھی جگہ نہ ہو۔جن کو آسمانی بادشاہت ملتی ہے وہ زمین والوں کی بادشاہت پر کچھ جمع نہیں رکھتے کیونکہ زمین کی بادشاہت بہت مختصر اور نیز چند روزہ اور فانی ہے۔401