درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 253
از کرم آن بنده خود را به بخشش با نواز az karam aaN bande'ee khod raa ba bakhshesh-haa nawaaz و این جدا افتادگان را از ترجم ها به میں wa eeN jodaa oftaadgaaN raa az tarah-hom-haa bebeeN مہربانی سے اپنے اس بندے پر بخشش فرما۔ اور ان علیحدہ رہنے والوں پر نظر رحمت کر 21 فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 ص 40 ز عشاق فرقان و پیغمبریم بدیں آمدیم و بدین بگذریم ze 'osh-shaaqe forgaano paighambareem badeeN aamadeem wa baa'eeN begzareem ہم قرآن اور آنحضرت کے عاشقوں میں سے ہیں اسی پر ہم آئے ہیں اور اسی حالت میں گزر جائیں گے 22 ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 ص 169 در آن این مریم خدائی نبود از موت و از فوتش رہائی نبود ze mauto ze fautash rehaa'i nabood dar aaN ibne Maryam khodaa'i nabood اس ابن مریم میں خدائی نہ تھی۔ کیونکہ موت وفوت سے اسے رہائی حاصل نہ تھی رہا کرد خود را از شرک و دوئی تو ہم کن چنیں ابن مریم توئی rehaa kard khod raa ze shirko doo'ee too ham kon choneeN ibne Maryam too'ee اس نے اپنے تئیں شرک اور دوئی سے آزاد کر لیا تھا تو بھی ایسا کر ۔ ابن مریم تو بھی بن جائے گا 23 ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 ص 388 اُمت احمد نہاں دارد دو ضد را در وجود می تواند شد مسیحا می تواند شد یهود mey towaanad shod Maseehaa mey twaanad shod Yahood om-mate Ahmad nehaaN daarad do zid raa dar wojood احمد کی اُمت اپنے وجود میں دو مخالف باتیں مخفی رکھتی ہے ( اس کا فرد) مسیح بھی بن سکتا ہے اور یہودی بھی 585