درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 227
کجا آن قناعت گزین اوستاد که بر اند کے آمد از اتحاد ke bar aNdakey aamad az it-tehaad kojaa aaN qanaa'at gozeen oostaad وہ قائع استاداب کہاں رہے جو اپنے اخلاص کے باعث تھوڑے گزارہ پر مل جاتے تھے بکوشیم و انجام کار آن بود که آن خواهش و رائے یزداں بود bekoosheem wa aNjaame kaar aaN bowad ke aan khaahesho raa'ey yazdaaN bowad ہم کوشش کرتے ہیں مگر نتیجہ وہی ہوتا ہے جو خدا کی مرضی اور خواہش ہوتی ہے فتاد است در فاضلان حرص و آز همه جایگاه شد ور طمع باز hame jaa'egaah shod dar tama' baaz fetaad ast dar faazelaan hirso aaz عالموں کے دلوں میں حرص اور لالچ پیدا ہو گیا ہے اور ہر جگہ طمع کے دروازے کھل گئے ہیں طمع عہد ہائے گران بگسلد ز دلدار پیوند جان بگسلد tama' 'ehd-haa'ey geraan begsalad ze dildaar paiwaNde jaan begsalad لالچ تو بڑے بڑے مضبوط اقراروں کو توڑ دیتا ہے بلکہ محبوب کے ساتھ گہرے ربط کو بھی توڑ دیتا ہے بجویند از حرص کثرت بمال ازان خود فتد اندران اختلال bejooyaNd az hirs kasrat bemaal azaan khod fetad andraan ikhtelaal یہ لوگ حرص کی وجہ سے کثرت مال چاہتے ہیں حالانکہ مال کمانے میں بھی حرص کی وجہ سے فتور پڑتا ہے دریغا ندانند این مردمان که آہستگی ہم رساند بران dareegha nadaanaNd een mardomaan ke aahestagi ham rasaanad baraan افسوس کہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ آہستگی سے بھی ان کی یہ مراد پوری ہو سکتی ہے 562