درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 155
آنکه بشکست ہر بت دل ما هست وحی خدائے بے ہمتا hast wahi'e khodaa'ey be hamtaa aaNke beshekast har bot-e dil-e maa وہ چیز جس نے ہمارے دل کے ہر بت کو توڑ دیا وہ خدائے لاثانی کی وحی ہی تو ہے آنکه ما را رُخ نگار نمود هست الهام آن خدائے ودود hast ilhaame aan khodaa'ey Wadood aaNke maaraa rokhe negaar nomood وہ چیز جس نے ہمیں معشوق کا چہرہ دکھا یا وہ خدائے مہربان کا الہام ہی تو ہے آنکه داد از یقین دل جامی هست گفتار آن دلآرامی aaNke daad az yaqeene dil jaamey hast goftaare aan dil-aaraamey وہ چیز جس نے دلی یقین کا جام پلایا وہ اُس معشوق کی گفتا ر ہی تو ہے وصل دلدار و مستی از جامش همه حاصل شده از الهامش wasle dildaar wa masti az jaamash hame haasel shode ze ilhaamash محبوب کا وصل اور اُس کے جام شراب کی مستی سب اُس کے الہام ہی سے حاصل ہوئی اے بریده امید ها از خدا توبه کن از فساد خود بازآ taube kon az fasaad khod baazaa ay boreede om-meed-haa ze khodaa اے وہ شخص جس نے اپنی امید میں خدا سے توڑ لی ہیں تو بہ کر اور اپنے اس فساد سے باز آجا عیش دنیائے دون دے چند است آخرش کار با خداوند است aakherash kaar baa khodawaNd ast aishe donyaa'ey doon damey chaNd ast اس ذلیل دنیا کا عیش تو تھوڑی سی دیر کی چیز ہے آخر کار خدا سے ہی واسطہ پڑتا ہے 492