درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page i of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page i

فارق مع نقل صوتی (ترانسانریشن) اردو یتیم اور فرهنگ نمر میں بود بخدا سخت کا فرم جانم فداشود بر داد دین حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی خصوصیات کے بارے میں حضرت میاں عبد الحق رامہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: ا۔آپ کے کلام میں ایک جیب کشش پائی جاتی ہے۔جو قاری کو خدا رسول اور پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے۔اس کا تجز ممکن نہیں۔نہ اس کے ثبوت میں کوئی دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں دیسے خاکسار کو یقین واثق ہے کہ جو شخص بھی اخلاص سے اس رشین کا مطالہ کرے گا وہ ضرور اس کشش کو محسوس کرے گا۔۔آپ نے اپنے کلام کو اپنے مشن یعنی احیائے اسلام کی تبلیغ تک محدود رکھا۔کسی بادشاہ یا امیر کی مدح نہیں کی۔اگر کسی کو سراہا تو محض اس کی دینی خدمات کے لئے اور ہیں۔۔۔دوسرے اساتذہ نے میٹک حمد اور نعت تو بیان کی ہیں لیکن قرآن کریم کی طرف بہت کم بزرگوں نے توجہ کی ہے اس کے بالمقابل حضرت اقدس نے بار بار بالتفصیل اس مقدس کتاب کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔اور ہمیشہ پر زور الفاظ میں اس صحیفہ ہدایت پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے رہے۔۔نعت میں بھی دوسرے اساتذہ آنحضرت ﷺ کی بنیادی خوبی اور برتری ( یعنی آپ کا ذات باری تعالی سے والہانہ عشق اور آپ سے اللہ تعالی کی محبت ) کے ذکر کو عموما نظر انداز کر گئے۔اس بارے میں ان کے کلام میں کہیں کہیں اشارے تو ملتے ہیں لیکن بالاستیعاب اس اہم ترین خوبی کا ذکر کہیں نہیں ہتا۔البتہ حضرت مسیح موعود نے اپنے محکوم کلام میں بھی اور منشور کلام میں بھی اس دو طرفہ محبت کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور بڑے ہی لطیف پیرایوں میں فر مایا۔۔۔یشن) اُردو ترجمہ اور فرہنگ جلد دوم