درثمین فارسی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 369

درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 39

کو گذارد عالمی را در ضلال مبتلا در پنجہ ہر ما کرے mobtalaa dar paNje'ee har maakerey koo gozaarad 'aalamey raa dar zalaal کیونکہ وہ ایک جہان کو گمراہی کی حالت میں ہر مگار کے پنجہ میں گرفتار چھوڑ دیتا ہے خود نمی دارد بیک قوم مدام بچھو شیدائے کے میل و سرے hamchoo shaidaa'ey kase mailo sarey khod hami daarad beyek qaumey modaam اور وہ خود کسی عاشق کی طرح صرف ایک ہی قوم سے ہمیشہ محبت اور تعلق رکھتا ہے اینچنیں پر حمق رائے ایں قوم را حمق دیگر این که بر وے فاخرے homqe deegar een ke bar wai faakherey eeN choneeN por homq raa'ey eeN qaum raa اس قوم کی اس قسم کی احمقانہ رائے ہے، دوسری حماقت یہ کہ اس احمقانہ رائے پر فخر کرتی ہے عاقبت این رائے زشت و بد خیال کرد ایشان را عجب کور و کرے kard eeshaN raa 'ajab kooro karey 'aaqebat een raa'ey zishto bad kheyaal آخر کار اس بری رائے اور بُرے خیال نے ان کو عجیب طرح کا اندھا اور بہرہ بنا دیا پوشیدند از صد چشمه نگون گشتند بر یک آخوری sarnegoon gashtaNd bar yek aakhoorey متکبّر - chashm poosheedaNd az sad chashme'ee انہوں نے سوچشموں سے تو اپنی آنکھ بند کر لی اور ایک کھرلی پر گر پڑے سخت ورزیدند کیں با انبیا الامان از کین ہر al-amaan az keene har motakab-berey sakht warzeedaNd keeN baa ambeyaa انہوں نے نبیوں سے سخت دشمنی اختیار کی ، ایسے ہر متکبر کی دشمنی سے خدا کی پناہ 36